1 اگست 2011 - 19:30

ایک ایسے وقت میں کہ جب عراق کی سیاسی جماعتوں کے رہنما آج منگل کے روز جلال طالبانی کے گھر پر عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا یا ان کی موجودگي جاری رہنے کے بارے میں مذاکرات کر رہے ہیں ،

ابنا: امریکہ کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف مائک مولن عراق پہنچ گئے ہیں۔ بہت سے سیاسی حلقے مائک مولن کے دورۂ عراق کو ان سیاسی رہنماؤں کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں۔ امریکہ نے کئی مہینوں سے عراق میں اپنے فوجیوں کی موجودگی کی مدت میں اضافے کے لیے عراقی حکومت پر دباؤ بڑھا رکھا ہے۔ اس دباؤ کے جواب میں عراق کے وزیراعظم نوری مالکی نے کہا ہے کہ عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگی جاری رہنے کے بارے میں ان کی حکومت اکیلے ہی فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے ضروری ہے۔ بغداد واشنگٹن سکیورٹی معاہدے کے مطابق عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے بارے میں اس وقت عراق کی سیاسی جماعتوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ العراقیہ پارٹی اور کرد جماعتیں عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگی جاری رہنے کی حامی ہیں جبکہ صدر گروپ عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا پر زور دیتا ہے اور بعض سیاسی جماعتوں نے اس سلسلے میں کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا ہے۔ اس دوران امریکی حکام صورت حال کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے حکام نے عراق میں سکیورٹی کے مسائل چھیڑ کر عراق میں اپنی فوجی موجودگی کو جاری رکھنے کے لیے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس وقت عراق میں سکیورٹی فورسز کو تربیت دینے کی آڑ میں امریکہ کے سینتالیس ہزار فوجی موجود ہیں۔ بغداد واشنگٹن سکیورٹی معاہدے کے مطابق رواں سال کے آخر تک تمام امریکی فوجیوں کو عراق سے نکل جانا ہے۔ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کسی بھی صورت میں عراق سے مکمل طور پر نکلنا نہیں چاہتا ہے۔ اس بات کے پیش نظر کہ عراقی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بغداد واشنگٹن سکیورٹی معاہدے میں توسیع ممکن نہیں ہے ، امریکی حکام اب عراقی حکومت پر اس سلسلے میں ایک نیا معاہدہ تھوپنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے عراقی حکام اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے اپنے رابطے تیز کر دیے ہیں۔ امریکہ ایسے حالات میں عراق میں اپنے فوجیوں کو باقی رکھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ جب عراق کی سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی قومی اتحاد کونسل نے اپنا تازہ ترین موقف بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممکن ہے عراق امریکہ کے تجربات سے فائدہ اٹھائے اور اس سے اپنی ضروریات کی بعض چیزیں اور وسائل خریدے لیکن وہ دو ہزار گيارہ کے بعد عراق میں حتی ایک امریکی فوجی کی موجودگی کا بھی مخالف ہے۔ .............

/169